آئی ایم ایف صیہونیوں نے “سی پیک” کی دستاویزات مانگ لیں

0
550

آئی ایم ایف صیہونیوں نے “سی پیک” کی دستاویزات مانگ لیں
اب سمجھ آئی صیہونی کیا چاہتے ہیں

آجکل آئی ایم ایف کا ایک وفد پاکستان آیا ہوا ہے جس کا مقصد پاکستان سے قرضوں کی واپسی کے لیے مزاکرات کرنا ہے۔ وفد 4 اکتوبر تک یہیں موجود ہوگا اور یہ مزاکرات روزانہ کی سطح پر کر رہا ہے۔

بظاہر تو یہ وفد قرضہ واپس لینے کے لیے آیا ہے لیکن اندرونے خانہ اس وقت وفد کا اصل مقصد کسی نہ کسی طرح پاکستان کو ڈرا دھمکا کر دوبارہ قرض لینے پر آمادہ کرنا ہے تاکہ پاکستان صیہونی کی جال آئی ایم ایف سے نکل نہ جائے۔

وفد کو معلوم ہوچکا ہے کہ پاکستان نیا قرضہ نہیں لے رہا اس لیے وفد اب حکومت پاکستان کو دھیمی انداز میں دھمکیاں دینے پر اتر آیا ہے۔ اس سلسلے میں پہلی دھمکی یہ تھی کہ قرضے پر ملنے والا منافع چین نہیں جانا چاہیے بلکہ امریکہ جانا چاہیے۔

دراصل پاکستان عالمی مارکیٹ سے تیل خریدتا ہے جس میں اربوں ڈالرز خرچ کرنے پڑتے ہیں اور ڈالرز کی تجارت سے سارا فائدہ امریکہ کو ہوتا ہے ، اگر پاکستان چین کی ادائیگیوں کے لیے چینی یوان میں تجارت کرنا شروع کرتا ہے تو یہ امریکیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

اسی تشویش کا اظہار پاکستان میں موجود امریکہ سفارت خانہ ان الفاظ سے کرچکا ہے کہ امریکہ کو سی پیک کی شفافیت پر تشویش ہے یعنی امریکہ کو تشویش ہے کہ کہیں آئی ایم ایف کا قرضہ سی پیک کی ادائیگیوں کے لیے استعمال ہوکر چین نہ چلا جائے۔

اسی امریکی تشویش کو بنیاد بناکر صیہونی آئی ایم ایف کے وفد نے حکومت پاکستان پر زور دیا کہ ہمیں سی پیک کے معاہدے کی نقول فراہم کی جائے تاکہ ہم اس معاہدے کو دیکھ سکیں۔ لیکن چونکہ سی پیک پاکستان اور چین کے درمیاں اربوں ڈالرز کا معاہدہ اس لیے اسے دیکھنے کا حق نہ تو امریکہ کو ہے نہ ہی آئی ایم ایف کو۔

آئی ایم ایف کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان نیا قرضہ کیوں نہیں لے رہا ۔ کہیں پاکستان صیہونی جال سے نکل ہی نہ جائے ۔ اگر ایسا ہوگیا تو صیہونیوں کے لیے یہ سب سے بڑی تشویشناک بات ہوگی کیونکہ پاکستان کو آئی ایم ایف میں پھانسنے کے لیے صیہونیوں نے نواز زرداری جیسوں پر اربوں ڈالرز خرچ کیے تھے، بڑی مشکل سے پاکستانی معیشت کا تورا بورا کرواکے پھر اسے آئی ایم ایف کے پاس پہنچایا گیا۔

آئی ایم ایف جان بوجھ کر پاکستان کی ترقی کو ایک حد سے زیادہ بڑھنے نہیں دیتا تھا اور پیداواری صلاحیت کو بھی محدود رکھتا تھا تاکہ پاکستانی معیشت اپنے پاؤں پر کبھی بھی کھڑی نہ ہوسکے اور پاکستانی کرنسی بھی مضبوط نہ ہو پائے۔

کسی بھی ملک کے معاشی استحکام کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ توانائی کے سستے زرائع موجود ہوں لیکن آئی ایم ایف پاکستان پر زور دیتا رہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں گرنے کے باوجود بھی پاکستان میں تیل کی قیمتیں کم مت کرو۔ ہمارے میٹرک فیک نواز شریف اور زرداری جیسے حکمران آئی ایم ایف کی باتوں پر ایمان لاکر وہی کرتے تھے جو آئی ایم ایف کے صیہونی حکم دیتے تھے۔ اسی لیے کہا جاتا تھا کہ پاکستان کی معیشت کی پالیسی آئی ایم ایف بناتا ہے۔ جب تک پالیسی آئی ایم ایف کے صیہونی بناتے تھے پاکستان ترقی کے بجائے مزید کمزور ہوتا گیا کیونکہ صیہونیوں نے پھانسا ہی ایسا تھا کہ نواز زراری جیسے نااہل حکمرانوں صیہونیوں کے اعلیٰ دماغوں کی ان چالوں کو سمجھ ہی نہ سکے۔

ایک طرف پاکستان میں توانائی منصوبوں کو بھارت اور امریکہ نے متنازعہ بنایا، آئی ایف ایف اور ورلڈ بینک سے توانائی منصوبوں کی تکمیل کے لیے ملنے والا قرض رکوایا تاکہ پاکستان میں سستی بجلی پیدا نہ ہوسکے کیونکہ اگر سستی بجلی پیدا ہوگئی تو مصنوعات بھی سستی ہوکر عالمی منڈی میں اپنی جگہ بنالیں گی اور یوں پاکستانی معیشت مضبوط ہوجائے گی۔اس لیے معیشت مضبوط ہونے نہیں دینی اور پاکستان کو ہمیشہ لولا لنگڑا رکھ کر آئی ایم ایف کے زریعے چلانا ہے۔

اسی لیاپنے پچھلے کالمو میں باربار کہہ چکے ہیںکہ چاہے کچھ بھی ہوجائے عمران خان حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس کسی صورت بھی نہیں جانا چاہیے۔ اگر عمران خان پاکستان کو آئی ایم ایف کے چنگل سے چھڑالے یہ قوم عظیم قوم بن کے ابھرے گی انشاللۂ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here