آئیے ایک نظر ان اعدادوشمار کی حقیقت دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔!

0
610

ذرا ان اعدوشمار کا گورکھ دھندا ملاحظہ فرمائیے۔۔۔۔ ! کس قدر بے شرم ، جھوٹے اور ڈھیٹ ہیں ۔۔۔۔۔ ان عام لوگوں کی سمجھ میں نہ آنے والے اعدوشمار کے ذریعے یہ ایک بار پھر عوام کو نوچنا کسوٹنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔!

آئیے ایک نظر ان اعدادوشمار کی حقیقت دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔!

مجموعی قومی پیدوار 10452 ارب روپے اور انکی حکومت جانے کے بعد 19436 ارب روپے ۔۔۔!
کیا آپ جانتے ہیں مجموعی قومی پیداوار سے کیا مراد ہے ؟ ٹوٹل پیدا کی گئیں اشیاء اور ادا کی گئی خدمات کا معاوضہ ۔۔۔۔ ! اسکو بڑی چالاکی سے روپے میں بیان کیا گیا ہے جسکو اگر ڈالر میں دیکھیں تو یہ وہی کا وہی ہے جو پانچ سال پہلے تھا چونکہ معیشت کی تباہی کی وجہ سے ڈالر کی قیمت گری ہے لہذا پیدا شدہ اشیاء اور خدمات کی قدر روپے مٰیں خودبخود بڑھ گئی اور درحقیقت مجموعی قومی پیداوار میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ۔۔۔۔ پانچ سال تک مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ نہ ہونا کسی ملک کی معیشت کی تباہی کی نشاندہی کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔!

معاشی ترقی کی شرح قومی پیداوار میں نہ ہونے والے اضافے سے ظاہر ہے ۔۔۔۔۔۔ ڈالر 60 سے سو پر چلا گیا اور مجموعی قرضوں کا حجم 6000 ارب روپے سے 12000 ارب روپے ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔۔!!

مہنگائی کی شرح میں جو “کمی” ہوئی ہے اس پر یہاں لکھنےکی ضرورت ہی نہٰیں عوام کو آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہے۔۔۔۔!

شرح سود پر تحقیق کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔۔!

بجٹ میں خسارہ کی کمی کی وجہ برآمدات میں اضافہ نہیں بلکہ ترقی کے لیے نہایت ضروری اہم نوعیت کی مشینری، خام مال کی درآمد میں کمی چونکہ بے شمار صنعتیں بند ہوئیں اور دفاعی سازوسامان کی درآمدات مٰیں کمی کی وجہ سے ہے جو بجائے خود ایک تباہی ہے۔۔۔۔۔۔!!

ٹیکس محصولات 1008روپے اور انکے رخصتی کے وقت 2380 ارب روپے ہوگئے ۔۔۔!
افسوس کا مقام ہے کیا آپ جانتے ہیں ٹیکس محصولات سے کیا مراد ہے؟ عوام پر لگائے گئے ٹیکسز ۔۔۔۔ آپ گھر کے لیے آٹا خریدنے تک سے لے کر گاڑی خریدنے تک جو کچھ خریدتے ہیں اس پر حکومت ٹیکس عائید کرتی ہے جو کارخانہ دار آپ سے وصول کرتا ہے ان ٹیکسوں میں ناجائز اضافہ عوام کا خون نچوڑنے کے مترادف ہے جسکو یہ لوگ بڑی بے شرمی سے اپنے کارنامے کی شکل میں آپ کے سامنے پیش کر کے آپ سے دوبارہ ووٹ مانگ رہے ہیں تاکہ دوبارہ اقتدار میں آکر آپ پر مزید ٹیکس لگا سکیں اور آپ کے جیب سے آخری سکے تک نکلوا لیں۔۔۔۔۔۔۔!!!

بیرونی ترسیلات دگنے ہوگئے اس سے مراد بیرونی ممالک سے پاکستانیوں کی بھیجی گئی رقوم ہیں ۔۔۔۔ یہاں بھی چال ہے یہ رقوم آپ ڈالر میں کنورٹ کر لیں تو وہیں کی وہیں ہیں یہ ڈالر کی قیمت گرنے سے روپوں میں زیادہ لگ رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو تھوڑا سا اضافہ ہوا ہے وہ پاکستانیوں کے اپنے ملک میں بے روزگاری کی بدولت باہر جانے کے رجحان کی وجہ سے ہوا ہے ہاں پیپلز پارٹی نے یہ ضرور کیا ہے کہ باہر سے کی جانے والی کالیں مہنگی کر کے رابطے کا فقدان پیدا کر دیا ہے جو ترسیلات کو کم کر سکتا ہے بڑھا نہٰیں سکتا۔۔۔۔۔۔!!!!!

یہ ہیں وہ حقائق جن کو جھٹلانا ممکن نہیں یہ کبھی نہیں بدلیں گے اور عوام انکی جھوٹی اور پرفریب چالوں میں آکر ہمیشہ انکو ووٹ دیتے رہیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!

تحریر شاہد خان

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here