آئینی جرائم ۔۔۔۔۔۔

0
1198
آئینی جرائم ۔۔۔۔۔۔ !

سنا ہے قومی اسمبلی کی رکنیت کے لیے “سچا اور ایماندار” ہونے کی شرط ختم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے ۔۔۔۔۔۔ 

اس کے لیے ملک کی پانچ بڑی سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ ان جماعتوں میں ۔۔ 
مسلم لیگ ن
پیپلز پارٹی
جے یو آئی ( فضل الرحمن )
ایم کیو ایم
اور اے این پی شامل ہیں۔

اس اصولی فیصلے کے بعد ” جھوٹا اور بے ایمان” بھی قومی اسمبلی کی رکنیت کا اہل قرار پائیگا۔

آئین میں ” صداقت و امانت” کی شرط جنرل ضیاء نے شامل کی تھی جس پر ن لیگی حلقے اور پیپلز پارٹی کے پونی والے چیرمین رضا ربانی کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے آمریت کی ” یادگار” قرار دے رہے ہیں۔

آمریت کی یہ یادگار ہٹائے جانے کے بعد آئین بالکل پاک صاف اور خالص جمہوری بن جائیگا۔

مزید یہ کہ یہ تبدیلی پچھلی تاریخوں میں کی جائیگی تاکہ ” جھوٹ اور بے ایمانی” پر ناہل ہونے والوں کی نااہلیت کلعدم قرار پائے۔

مطلب ۔۔۔۔۔ ” جج صاحب آپ آئین کی جس شق کے تحت ہمارے وزیراعظم کو نااہل قرار دے رہے ہیں وہ شق تو ہم نے “کل ہی پچھلے سال” ختم کر دی تھی” ۔۔ ذرا اس جمہوری ادا کا مزہ لیجیے ۔۔۔۔ 

نیز صدر کے علاوہ اب وزیراعظم اسکی کابینہ اور پورے اراکین پارلیمنٹ کو بھی مکمل عدالتی استثناء دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ جس کے بعد کسی رکن پارلیمنٹ کے خلاف عدالتوں میں کسی کیس کی سماعت نہیں ہو سکے گی۔

اگر اراکین پارلیمنٹ سے کوئی جرم سرزد ہوا تو وہ خود ہی اپنا احتساب کرینگے اور خود کو خود ہی سزا دے سکیں گے۔

کئی اراکین پارلیمنٹ ٹی وی شوز میں برملا اعتراف کر رہے ہیں کہ ” آرٹیکل 62/63 پر کوئی بھی پورا نہیں اترتا” ۔۔۔ مطلب تسلیم کرتے ہیں کہ وہ غیر آئنی طور پر پارلیمنٹ میں براجمان ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الیکشن کمیشن پتہ نہیں کہاں مرا ہوا ہے ؟؟؟؟؟؟

اگر یہ ترمیم ہوتی ہے تو پاکستان دنیا کا پہلا ملک بن جائیگا جہاں ” جھوٹ اور بے ایمانی ” کو آئینی تحفظ مل جائیگا۔
اور عدالتی استثناء کے بعد تمام سیاست دانوں کے خلاف تمام کیسز خود بخود ختم ہوجائینگے۔

آہ ۔۔۔۔۔۔۔ آئین انکا آخری سہارا رہ گیا ہے۔ اب آئین ہی ان کو بچا سکتا ہے۔ جس جس جرم میں آپ انکو پکڑنا چاہیں گے اسکو وہ آئین میں لکھ دینگے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ اللہ خیر سلا ۔۔۔ !

تحریر شاہدخان

 
 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here