آئینِ پاکستان کی شق نمبر 38 (ایف) کہتی ہے۔ ” حکومت جس قدر جلد ممکن ہو سکے ربا (سود) ختم کرے گی

اکتوبر1991ء میں وفاقی شرعی عدالت نے157 صفحات کا فیصلہ تحریر کیا جس کے تحت 30 جون 1992ء سے بینک کے سودی کاروبار کو حرام قرار دے دیا۔ اس فیصلے کے خلاف اس وقت کے وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف فوراً سپریم کورٹ جا پہنچے اور وہاں سے حکم امتناعی حاصل کیا۔

0
2834

اللہ اور رسولﷺ کے خلاف جنگ کی کہانی ۔۔۔ !

آئینِ پاکستان کی شق نمبر 38 (ایف) کہتی ہے۔ ” حکومت جس قدر جلد ممکن ہو سکے ربا (سود) ختم کرے گی” ۔

اکتوبر1991ء میں وفاقی شرعی عدالت نے157 صفحات کا فیصلہ تحریر کیا جس کے تحت 30 جون 1992ء سے بینک کے سودی کاروبار کو حرام قرار دے دیا۔ اس فیصلے کے خلاف اس وقت کے وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف فوراً سپریم کورٹ جا پہنچے اور وہاں سے حکم امتناعی حاصل کیا۔ 

قرآن کا فیصلہ ہے کہ سود کرنے والا اللہ اور اس کے رسولﷺ سے جنگ کے لیے تیار ہوجائے!

نواز شریف اس وقت سے اللہ اور رسولﷺ کے خلاف حالت جنگ میں ہیں۔

جولائی 1999 میں نواز شریف نے کارگل کے محاذ پر جیتی ہوئی جنگ میں پسپائی کا فیصلہ کر کے مقبوضہ کشمیر کے ایک کروڑ مسلمانوں کی آزادی کا سنہری موقع ضائع کروا دیا۔

اسی سال نواز شریف نے پرویز مشرف پر ملا عمر کی امداد بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالا اور افغان طالبان کے ہمراہ شہید ہونے والے پاک فوج کی جوانوں کی لاشیں وصول کرنے سے انکار کر دیا۔

۔ 2011ء میں نواز شریف نے بیان جاری کیا کہ ” جس رب کو بھارتی پوجتے ہیں اسی رب کو ہم بھی پوجتے ہیں، دونوں ایک قوم ہیں، بس سرحد کی ایک لکیر بیچ میں آگئی ہے” ۔۔۔۔۔۔

نومبر 2015 میں میاں محمد نواز شریف نے لبرل سیکولر پاکستان بنانے کا اعلان کیا۔

۔ 29 فروری 2016 کو نواز شریف نے ممتاز قادری کو پھانسی دے دی لیکن آسیہ ملعونہ کی سزا پر تاحال عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ ممنون حسین کے پاس ممتاز قادری کے لیے ایک وفد درخواست لے کر گیا کہ آپ اس کیس کو لٹکا دیں۔
ممنون حسین نے کہا تھا کہ ” میں کیا کروں۔ میرے پاس 80 کیسز پھانسیوں کے پینڈنگ ہیں۔ لیکن مجھے ہر تیسرے دن وزراعظم ھاؤس سے کال آرہی ہے کہ ممتاز حسین کا کیس کھولو” ۔۔۔۔۔۔
(ممتاز قادری پر آئی ایس آئی نے رپورٹ دی تھی کہ اسکو سزا نہ دیں انتشار کا خطرہ ہے لیکن نواز شریف نے اس رپورٹ کو بھی نظر انداز کر دیا)

نومبر 2016 میں سندھ میں قبول اسلام پر پابندی کا بل منظور کر لیا گیا۔ مسلم لیگ ن کے ایم این اے ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی نے یہ بل منظور کروانے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔

۔ 2016 میں ہی نواز شریف نے چناب نگر میں نجکاری کے نام قادیانیوں کو وہ تمام تعلیمی ادارے واپس کر دئیے جن بارے میں میں گمان تھا کہ وہاں سے وہ اسلام کے خلاف کام کرتے ہیں۔

جنوری 2017ء میں نواز شریف حکومت نے نہ صرف گرفتار ہونے والے گستاخ بلاگرز کو برآمد کرایا بلکہ پاکستان سے باہر بھی بھیجا۔
وزرات خارجہ کے ترجمان زیدی صاحب کے مطابق گستاخ بلاگرز اور فیس بک پر گستاخانہ مواد کے خلاف حکومت کی طرف سے ہمیں کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئیں نہ ہی فیس بک انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا۔
مریم نواز پر گستاخانہ پیجز کی سرپرستی کا الزام بھی ہے اور ڈاکٹر عامر لیاقت کے مطابق وہ بھینسا پیج سے مواد بھی شیر کرتی رہی ہیں جنکے سکرین شاٹس ان کے پاس محفوظ ہیں۔

اس وقت سوشل میڈیا پر موجود تقریباً تمام گستاخانہ پیجز، تمام مشہورملحدین اور پاکستان میں موجود تمام سیکولر عناصر بشمول عاصمہ جہانگیر، نجم سیٹھی اور احمد نورانی وغیرہ نواز شریف کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

اگست 2017ء میں پنجاب میں پرائمری کے نصاب سے اسلام، پاکستان اور قومی ہیروز کے حوالے سے مضامین ہٹا دئیے گئے۔ مختلف کلاسز کے نصاب سے اسلامی تعلیمات ہٹانے کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ جواز یہ کہ یہ ضیاء دور میں شامل کی گئیں ہیں۔

ن لیگ کے خواجہ آصف نے اپنے دورہ امریکہ میں کشمیری مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف پاکستان سے اٹھنے والی سب سے طاقتور آواز حافظ سعید کو بغیر کسی ثبوت کے دہشتگرد قرار دے دیا۔

چند دن پہلے نواز شریف نے انتخابی فارم میں ختم نبوت کے حوالے سے خطرناک تبدیلی کی۔ جس کو زبردست عوامی ردعمل پر ” کلیرکل غلطی ” کہہ کر واپس لے لیا گیا۔
( یہاں میں پھر سوال کرنا چاہتا ہوں کہ ختم نبوت والی ترمیم تو کلیرکل غلطی تھی۔ اس فارم میں درحقیقت کونسی تبدیلی مقصود تھی؟ وہ تبدیلی کہاں ہے؟؟)

پاکستان میں بسنے والوں مسلمانوں کی اکثریت غزوہ ہند پر یقین رکھتی ہے۔ اس غزوہ کے لیے نواز شریف پاکستان کو معاشی اور سفارتی محاذ پر ممکن حد تک کمزور کر چکا ہے۔

نواز شریف کی یہ جنگ ابھی جاری ہے۔ لیکن اللہ اور رسولﷺ کے خلاف وہ یہ جنگ کبھی نہیں جیت پائیگا۔

نواز شریف اپنے منتقی انجام کو پہنچ جائیگا ان شاءاللہ۔ لیکن ساتھ ساتھ فضل الرحمن اور ساجد میر جیسے بدترین علماء بھی ذلیل و رسواء ہونگے جو اس کے دائیں بائیں کھڑے ہیں۔ ان علماء نے چند ٹکڑوں کے عوض اپنی آخرت بیچ دی ہے!

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here